پیر 7 ستمبر 2026 - 06:43
الزہراء کالج سکردو میں علمی نشست کا انعقاد: آج فکری پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان؛ انسان کا بڑا المیہ ہے، مولانا علی مرتضیٰ زیدی

حوزہ/الزہراء کالج سکردو بلتستان پاکستان کے مین کیمپس میں "نوجوان نسل کی فکری اور علمی تشکیل" کے عنوان سے ایک خصوصی علمی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا؛ نشست سے کراچی سے تشریف لائے ہوئے مولانا سید علی مرتضٰی زیدی نے خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الزہراء کالج سکردو بلتستان پاکستان کے مین کیمپس میں "نوجوان نسل کی فکری اور علمی تشکیل" کے عنوان سے ایک خصوصی علمی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا؛ نشست سے کراچی سے تشریف لائے ہوئے مولانا سید علی مرتضٰی زیدی نے خطاب کیا۔

نشست میں اساتذہ اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

الزہراء کالج سکردو میں علمی نشست کا انعقاد: آج فکری پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان؛ انسان کا بڑا المیہ ہے، مولانا علی مرتضیٰ زیدی

مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی نے نوجوان نسل کی تشکیل کو محض تعلیم اور معلومات کے حصول کا مسئلہ قرار دینے کے بجائے اسے انسان کی فکری، روحانی، اخلاقی اور علمی تعمیر کے ایک ہمہ گیر عمل کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کا مستقبل درحقیقت اس کے نوجوانوں کے ذہنوں میں تشکیل پانے والے افکار اور اقدار سے جنم لیتا ہے۔اسلیے نوجوان کی حقیقی تربیت کا آغاز اسے یہ سکھانے سے ہوتا ہے کہ وہ کیا سوچنے سے پہلے یہ سمجھے کہ کیوں اور کیسے سوچے؟

الزہراء کالج سکردو میں علمی نشست کا انعقاد: آج فکری پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان؛ انسان کا بڑا المیہ ہے، مولانا علی مرتضیٰ زیدی

انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ علم اگر انسان کو سوال کرنے کا حوصلہ، حقیقت تک پہنچنے کی جستجو اور اپنی ذات و معاشرے کے بارے میں ذمہ داری کا شعور عطا نہ کرے تو وہ معلومات کا بوجھ تو بن سکتا ہے، لیکن شخصیت کی تعمیر نہیں کرسکتا۔ ایک زندہ ذہن وہ ہے جو روایت سے اپنا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے اپنے عہد کے سوالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

مولانا سید علی مرتضٰی زیدی نے نوجوان نسل کو فکری سطح، غیر تنقیدی تقلید اور معلومات کے ہجوم میں گم ہو جانے کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آج انسان کا سب سے بڑا مسئلہ علم کی کمی نہیں، بلکہ فکر کی پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان ہے۔حقیقی علمی تربیت انسان کو صرف بہت سی باتیں جاننے والا نہیں بناتی، بلکہ اسے حقیقت اور تاثر، اہم اور غیر اہم اور صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔

الزہراء کالج سکردو میں علمی نشست کا انعقاد: آج فکری پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان؛ انسان کا بڑا المیہ ہے، مولانا علی مرتضیٰ زیدی

انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنے علمی سفر کو محض ڈگری اور معاشی ضرورت تک محدود نہ رکھیں، بلکہ علم کو اپنی شخصیت کی تعمیر، انسانی ذمہ داری کے شعور اور معاشرے کی فکری اصلاح کا ذریعہ بنائیں؛ کیونکہ وہ نسل جو اپنے وجود کے مقصد اپنی تہذیبی شناخت اور اپنے زمانے کے بنیادی سوالات سے آگاہ نہ ہو علم کے باوجود فکری طور پر دوسروں کی محتاج رہتی ہے۔

الزہراء کالج سکردو میں علمی نشست کا انعقاد: آج فکری پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان؛ انسان کا بڑا المیہ ہے، مولانا علی مرتضیٰ زیدی

الزہراء کالج سکردو میں علمی نشست کا انعقاد: آج فکری پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان؛ انسان کا بڑا المیہ ہے، مولانا علی مرتضیٰ زیدی

نشست میں اس امر پر بھی گفتگو ہوئی کہ نوجوان کی فکری اور علمی تشکیل ایک مسلسل سفر ہے جس میں مطالعہ، تفکر، مکالمہ، خود احتسابی اور اخلاقی تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایک متوازن شخصیت اسی وقت وجود میں آتی ہے جب ذہن علم سے روشن، فکر حقیقت سے وابستہ، دل اخلاقی اقدار سے زندہ اور عمل انسانی ذمہ داری کے احساس سے معمور ہو۔

الزہراء کالج سکردو میں علمی نشست کا انعقاد: آج فکری پراکندگی اور شعور کی سمت کا فقدان؛ انسان کا بڑا المیہ ہے، مولانا علی مرتضیٰ زیدی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha